ابنا: ابھی تک کی جدوجہد سے معلوم ہوا ہے کہ مختلف تنظیموں و جماعتوں کی طرف سے دھرنوں اور مظاہروں سے وقتی پریشر تو ضرور بنا ہے، ایک آدھ ہفتے کیلئے راستوں پر آمد و رفت بھی شروع کرائی گئی ہے، لیکن محاصرہ، قتل و غارت، بربریت اور لشکر کشیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ تمام قومی و ملی اداروں کو اور ملت کے ہر ایک فرد کو پاراچناری بھائیوں اور بہنوں کے مطالبات کے حق میں اپنی اپنی آواز اُٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ! ” پاراچنار اب بھی جل رہا ہے”تحریر:محمد حمزہ 22 مئی 2011ء کو ایک حبس بھری سہ پہر کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے “یہ کس کا لہو یہ کون مرا۔۔۔۔۔بدمعاش حکومت بول ذرا، تم کس کس کو مرواؤ گئے ۔۔۔۔یہ ساری قوم حسینی ہے، طالبان مردہ باد۔۔۔۔۔پاکستان زندہ باد اور پاکستان بنایا تھا ۔۔۔۔۔پاکستان بچائیں گے” کے فلک شگاف نعرے بلند ہو رہے تھے، نعروں کے ساتھ ہوا میں بلند ہونے والے ہزاروں ہاتھوں کے عین سامنے سیکرٹریٹ کی عمارت پر سبز ہلالی پرچم آہستہ آہستہ جھومتے ہوئے جیسے کہہ رہا تھا، کان لگا کر سنا تو کہہ رہا تھا کہ اے میرے فرزندو! تم کس کے سامنے اپنی فریاد پیش کر رہے ہو؟ ارے! ان عمارتوں اور ایوانوں کے مکینوں کی مثال تو اُس ماں کی سی ہے کہ جن کے بچے تکلیف سے بلک رہے ہوں اور وہ اُن سے بے نیاز اپنی آرائش و زیبائش میں مگن ہو۔ ارے! تم لوگ یونہی اپنا حق مانگنے کیلئے چلے آئے ہو ، کہاں ہیں تمہارے مفتی جعفر حسین، کہاں ہیں تمہارے عارف حسینی اور کہاں ہیں تمہارے ڈاکٹر نقوی؟ ارے! کیا کسی غلامانہ ذہنیت کی حامل مفلوج حکومت نے کبھی یونہی چیخنے چلانے پر اپنی رعایا کو اُن کا کوئی جائز حق دیا ہے؟ارے کیا تم لوگ اپنے روحانی پیشوا، آیت اللہ روح اللہ خمینی رہ کی وصیت بھول گئے کہ جب تمہیں تمہارا حق مانگنے پر نہ دیا جائے تو اپنا حق چھین لو۔۔۔۔۔اچانک موبائل کی گھنٹی نے چونکا دیا۔ موبائل کی دوسری طرف سے سلام کے بعد آواز آئی کہ یہ شور شرابا کیسا ہے، جواب دیا کہ وہ پارا چنار کے مسئلے پر ریلی ہے۔ حیرت سے پوچھا کہ او بھائی! پارا چنار کا مسئلہ تو کچھ ماہ پہلے ہی حل نہیں ہو گیا تھا کیا۔؟ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔۔۔نہیں بھائی نہیں۔۔۔۔۔پاراچنار اب بھی جل رہا ہے۔۔۔۔۔۔پارا چنار اب بھی جل رہا ہے۔ یہ یوتھ آف پارا چنار کے زیر اہتمام جاری احتجاجی دھرنے کا 31 واں دن تھا۔ یاد رہے کہ پاراچنار محاصرے کا پانچواں سال شروع ہو جانے، پارا چنار جانے والی مین شاہراہ (جی ٹی روڈ) پر دہشت گردی کے مسلسل دل ہلا دینے والے واقعات اور اسٹیبلشمنٹ کی مسلسل مجرمانہ غفلت اور بسا اوقات جانبدارانہ اقدامات کے خلاف پاراچنار سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹیوں کے چند نوجوانوں نے اس احتجاجی پروگرام کا آغاز کیا۔ اپنے احتجاج کے ذریعے سے حکومت وقت اور دیگر متعلقہ اداروں تک مندرجہ ذیل مطالبات پیش کئے ہیں۔ 1۔ 25 مارچ 2011ء کو طوری و بنگش قبائل کے اغواء شدہ 33 افراد کو فی لفور رہا کروایا جائے۔ 2۔ ٹل پاراچنار روڈ کو محفوظ بنانے کیلئے ہر کلومیٹر کے فاصلے پر پاک فوج کی چیک پوسٹیں قائم کی جائیں۔ 2۔ ٹل پاراچنار روڈ کو محفوظ بنانے کیلئے ہر کلومیٹر کے فاصلے پر پاک فوج کی چیک پوسٹیں قائم کی جائیں۔ 4۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری کے وعدے اور اعلانات کے مطابق PIA یا کسی اور ائیر لائن کی پروازیں شروع کرا دی جائیں۔ 5۔ حکومت اپنے وعدے کے مطابق، معاہدہ مری کو قابل عمل بنا کر نافذ کرے اور اب تک اس معاہدے کی جہاں جہاں بھی خلاف ورزی کی گئی ہے، وہاں فوری تادیبی کارروائی کی جائے۔ 6۔ طوری ملیشیاء کے جو یونٹس دیگر قبائلی علاقوں میں تعینات ہیں، اُنہیں واپس کرم ایجنسی بلایا جائے۔ 7۔ کرم ایجنسی کو آفت زدہ علاقہ قرار دے کر وہاں خصوصی ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا جائے۔ 8۔ تعلیم اور صحت کے اداروں کیلئے فوری سٹاف مہیا کیا جائے اور ان کی اپ گریڈیشن کی جائے۔ 9۔ کرم ایجنسی کے طلباء کیلئے ملک بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں فری ایجوکیشن کی سہولت دی جائے۔ 10۔ کرم ایجنسی میں بیرونی دہشت گرد گروہوں کی دخل اندازی اور آمد ورفت کو فی الفور روک دیا جائے۔ یوتھ آف پاراچنار کا یہ مسلسل احتجاج تیسریے مہینے میں داخل ہو چکا ہے، جس میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے ایک احتجاجی دھرنا کیمپ کے ساتھ ساتھ درجنوں مظاہرے، ریلیاں اور کفن پوش دھرنے بھی دیئے جا چکے ہیں۔ اس دوران بیسیوں پارلیمنٹرینز نے یوتھ کے دھرنے میں شامل ہو کر اظہار یکجہتی بھی کیا، جن میں پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور ق، ایم کیو ایم، تحریک انصاف اور دیگر سیاسی پارٹیوں کی اہم شخصیات شامل ہیں۔ یوتھ کے استقلال اور عزم کو دیکھ کر احتجاج مسلسل ایک مہینہ پورا ہونے پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے حقوق انسانی نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے دھرنے کی منتظمین کو قومی اسمبلی کے ایک چیمبر میں میٹنگ کی دعوت دی۔ میٹنگ میں یوتھ آف پاراچنار کے نمائندگان کے سامنے کمیٹی کے سربراہ ریاض فتیانہ، Ministry of Safron کے وزیر شوکت اللہ اور فرخ ناز اصفہانی سمیت دیگر اہم شخصیات براجمان تھے۔ تفصیلی بحث و تمحیص کے بعد کمیٹی نے پاراچنار کو آفت زدہ قرار دے کر اپنی سفارشات مرتب کرکے مصطفٰی نواز کھوکھر کی سربراہی میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ڈیفنس اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری وزارت داخلہ پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ اس تین رکنی کمیٹی نے ابتدائی طور پر محکمہ دفاع، دیگر سیکیورٹی اداروں اور متعلقہ شخصیات کو خدشات اور مطالبات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ بھیج دی۔ اس کے بعد تمام وفاقی و صوبائی محکمہ ہائے و ادارہ جات تعلیم کو پاراچنار کے طلباء کیلئے مفت تعلیم کی سہولت کے حوالے سے خط لکھا، جس میں ان سے اس سفارش کے حوالے سے فزیبلٹی بھیجنے کو کہا گیا ہے۔ حال ہی میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے سینیٹر افراسیاب خٹک کی سربراہی میں یوتھ آف پاراچنار کے نمائندگان کے ساتھ اسی ایوان سے ملاقات کی اور پاراچنار کے مسئلے پر مکمل بحث کے بعد متعلقہ محکموں کو مطالبات پر فوری عملدرآمد کیلئے نوٹیفیکیشن جاری کئے۔ نوجوانوں کی یہ استقامت اور عزم کہ جس کی داستان پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنے، کفن پوش مظاہروں سے لے کر اپنی سرزمین اور اپنے اسلامی نظریات کی حفاظت کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے پر مشتمل ہے۔ انشاء اللہ اپنا رنگ ضرور دکھائے گی، لیکن ملک کے نابینا اور اندھے ناخداؤں سے کس حد تک توقع رکھی جائے، یہ قابل بحث ہے۔ محب وطن طوری و بنگش عوام پر ظلم وستم کی داستان صرف محاصرے، اشیائے خوردونوش و ادویات کی قلت، بیرونی حملہ آوروں کی بربریت یا قتل عام تک محدود نہیں ہے۔ سب سے بڑا ستم یہ ہے کہ جن لوگوں کو اس درد و غم کی دوا کرنی چاہیے ،اُنہوں نے بھی وہاں کے مظلوم عوام کے زخموں پر نمک کی پٹیاں باندھنے کی کوشش کی۔ اس ستم کے بعد سوموٹو ایکشن کے چیمپئین چیف جسٹس افتخار چودھری نے بھی اس مسئلے کے درخود اعتنا نہ سمجھا، ستم بالائے ستم یہ کہ آزادی کی علمبردار So Called آزاد میڈیا نے بھی پاراچنار کے ایشو پر جو کردار ادا کیا، اُس سے اُن کی غلامانہ حیثیت کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ صورتحال جاننے کیلئے مثال عرض ہے کہ جس وقت یعنی فروری 2011ء کو پاکستانی تاریخ کے جھوٹے ترین وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کو چند قبائلی عمائدین کی موجودگی میں مسئلہ پاراچنار پر پردہ ڈالنا مقصود ہوا، تو مختلف ٹی وی چینلز نے Breaking News کی بوچھاڑ کر دی اور اگلے روز نامور اخبارات کی شہ سرخیوں میں یہ بات پڑھنے کو ملی کہ ” پاراچنار کے بند راستے کھل گئے”۔ چند ہفتے بعد جب انہی کھلے ہوئے راستے پر مختلف واقعات میں 30 سے زائد افراد شہید اور 33 سے زائد یرغمال بنائے گئے تو ان نامور اخبارات کے اندر کے صفحوں میں ایک کونے پر چھوٹی سی خبر کے سوا کچھ نہ دیکھا گیا اور آزاد میڈیا کے آزاد چینلز پر ایک آدھ چھوٹی خبر یا پٹی کے سوا کچھ نشر نہ ہوا۔ مسئلہ پاراچنار سے متعلق محاصرے، غیر محفوظ روڈ یا دیگر مشکلات کی خبریں یا تو اس انداز میں نشر کی گئیں کہ اصل مسئلے کا عوام الناس کو ابھی تک علم ہی نہ ہو سکا یا اس طرح کہ اہلیان پاراچنار کی تنہائی میں اضافہ کیا اور ہر جگہ سے مبارکبادی کے پیغامات ملنے لگے “مبارک ہو آپ لوگوں کے راستے تو کھل گئے” ماشاءاللہ پاراچنار کا مسئلہ تو اب حل ہوا، اب کوئی اور مسئلہ حل کرنے پر توجہ دیتے ہیں”۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔ اہلیان پاراچنار جواب دیتے ہیں کہ ارے بھی! راستے بند کب تھے جو اب کھل گئے ہیں، ہم تو ان کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے ۔۔۔۔۔آخر کار میڈیا کے منفی پروپیگنڈے نے کام کر دکھایا نا۔ 21،20 مئی کو کور کمانڈر پشاور نے آئی جی ایف سی اور دیگر اہم ذمہ داران کے ساتھ جغرافیائی طور پر اس اہم ترین علاقے کا دورہ کیا۔ دورے کے دوران ایک جرگے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ جلد از جلد یرغمالیوں کو رہا کروانے کیساتھ ساتھ دیرپا امن کیلئے دیگر اقدامات بھی کریں گے، لیکن دوران خطاب انہوں نے خود کو اپنی ذمہ داری سے یکسر مبرا قرار دیتے ہوئے کہا کہ قبائلی خود ذمہ داری کا ثبوت دیں۔ ابھی وہ بمشکل وہاں سے رخصت ہی ہوئے تھے کہ لوئر کرم کے علاقے بالش خیل پر اچانک حملہ کر کے لڑائی چھیڑ دی۔ جب طوری و بنگش اقوام کے افراد نے اپنا حق دفاع استعمال کرتے ہوئے جوابی فائرنگ کی تو مخالف سمت سے اُن کو ایف سی اور دیگر سکیورٹی اداروں کے توپ خانوں اور ٹینکوں کی گولیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ طوری و بنگش افراد کے مورچوں پر سرکاری فورسز نے بلا اشتعال گولے برسائے، جن سے نہ صرف وہ دفاعی مورچے تباہ ہوئے بلکہ اس فائرنگ سے 4 افراد شہید اور 7 سے زائد زخمی بھی ہو گئے۔ کور کمانڈر صاحب نے جاتے جاتے یہ تحفے دیئے اور ساتھ ہی شلوزان تنگی میں جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ مینگل قبیلے کے افراد نہ صرف بھاری تعداد میں مورچہ زن ہیں بلکہ بھاری ہتھیار کا استعمال بھی بلا ناغہ کر رہے ہیں۔ اہلیان کرم کو جن کے زخم ابھی مندمل نہیں ہوئے، جو اپنے عزیزوں کی بحفاظت رہائی کیلئے دعا گو تھے، ان پر بلا وجہ ایک بار پھر جنگ مسلط کرنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ یوتھ آف پاراچنار کے جوان بھی حکومت وقت سے یہی سوال کر رہے ہیں کہ آخر ہمیں پاکستان سے محبت کی سزا کیوں دی جا رہی ہے، جواب میں ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس، پارلیمنٹ ہاؤس اور سپریم کورٹ سے آواز آتی ہے، کرو کرو احتجاج بیٹا یہ تو آپ لوگوں کا بنیادی حق ہے اور ہم جمہوریت کے علمبردار آپ جیسے معصوم شہریوں کو احتجاج سے کبھی منع نہیں کریں گے۔ وزیراعظم صاحب کی آواز کانوں سے ٹکراتی ہے،”وہ میں نے رحمان بابا کو کہا ہوا وہ مسئلے کو دیکھ رہے ہیں”، ملی و قومی تنظیموں و جماعتوں کی آواز آتی ہے،” آپ لوگ احتجاج جاری رکھیں انشاء اللہ ہم آپ کی حمایت کا اعلان کرینگے”، یعنی پارا چنار کے لوگ امریکہ و امریکی ایجنٹس جیسے دشمنوں کا مقابلہ بھی کریں، دفاع بھی کریں، لڑیں، مریں ،مصائب ومشکلات کا سامنا بھی کریں ،اپنے پیاروں کے ٹکڑوں کو بھی سنبھالیں اور احتجاج بھی خود کریں۔۔۔۔۔۔۔۔! اگر بات یہیں ختم ہوتی تو ٹھیک تھا، لیکن کچھ معلوم نہیں کہ آخر کب تک اپنے پیاروں کی لاشوں پہ لاشیں دفناتے رہیں گے، 1500 سے زائد شہداء،
1 جولائی 2011 - 19:30
News ID: 250883
تمام ملی تنظیمیں اور جماعتیں تنظیمی مفادات سے بالاتر ہو کر، اپنے اپنے اختلافی مسائل کو بالائے طاق رکھ کر پاراچنار کے اس حساس مسئلے کو پاراچنار کے عوام کی اُمنگوں کے مطابق حل کرنے کیلئے اسی طرح ملکی و بین الاقوامی سطح پر اُٹھائیں جیسے کہ یہ خود ایک انٹرنیشنل ایشو ہے۔